کہانی پڑھیں
ایک دن گاؤں کی ایک شرارتی بکری نے سائیکل پر پنکھ باندھ لیے اور چیخی، “آج میں چاند پر پکنک منانے جا رہی ہوں!”
ننھی مریم ہنس کر بولی، “بکری آپا، پہلے گلی کا موڑ تو سیدھا کاٹ لو!”
بکری نے گھنٹی بجائی، پیڈل مارا، اور سیدھی گھاس کے ڈھیر میں جا گھسی۔
وہ منہ باہر نکال کر بولی، “یہ چاند کچھ زیادہ ہی سبز لگ رہا ہے!”
مریم اتنا ہنسی کہ اس کا ربن بھی ٹیڑھا ہو گیا۔
اتنے میں ایک مرغا آیا اور بولا، “اگر چاند پر جا رہی ہو تو میرا سلام بھی لے جانا!”
بکری نے شان سے کہا، “ضرور، مگر واپسی پر مجھے ستاروں والی گھاس چاہیے۔”
ہوا چلی، پنکھ پھڑپھڑائے، اور سائیکل الٹی ہو کر خود ہی گھومنے لگی۔
سب جانور تالیاں بجا کر ہنسنے لگے، اور بکری نے اعلان کیا، “چاند بعد میں، پہلے سائیکل چلانا سیکھتی ہوں!”
تب سے گاؤں میں جب بھی کوئی عجیب منصوبہ بناتا، سب کہتے: “دیکھو، کہیں بکری والا اُڑن کھٹولا نہ بن جائے!”
جانوروں کی اردو کہانیاں میں شامل یہ اردو کہانی تمام اردو کہانیوں کی فہرست کا حصہ ہے۔