خاص پیشکش

چھینک مار اژدھا

ایک چھینکتا ہوا اژدھا اپنی زوردار چھینکوں سے آم گرا دیتا ہے اور سب کو ہنسا دیتا ہے۔

کہانی پڑھیں

ایک دن ننھے سعد نے جنگل میں ایک بہت بڑا اژدھا دیکھا جو بار بار زور سے چھینک رہا تھا۔

سعد نے ڈرنے کے بجائے پوچھا، “اژدھا بھائی، آپ آگ نہیں، چھینکیں کیوں نکال رہے ہیں؟”

اژدھے نے ناک رگڑتے ہوئے کہا، “میں نے غلطی سے کالی مرچ سونگھ لی ہے!”

سعد ہنس کر بولا، “اوہ، تو آپ خطرناک نہیں، بس مصالحے دار ہو گئے ہیں!”

اتنے میں اژدھے نے ایک اور چھینک ماری، اور درخت سے آم ٹپ ٹپ نیچے گرنے لگے۔

ایک بندر اچھل کر بولا، “واہ! یہ تو چھینک نہیں، آم گرانے کی مشین ہے!”

سعد نے ایک آم اٹھایا اور کہا، “چلو، ڈرنے کے بجائے آم پارٹی کرتے ہیں!”

اژدھا خوش ہو گیا اور آہستہ سے بولا، “مگر مرچ مجھ سے دور رکھنا!”

سب نے مل کر آم کھائے، ہنسے، اور اژدھے کو ٹھنڈا پانی پلایا۔

تب سے جنگل میں وہ اژدھا “آگ والا” نہیں، بلکہ “چھینک مار آم دوست” کہلاتا تھا۔

جانوروں کی اردو کہانیاں میں شامل یہ اردو کہانی تمام اردو کہانیوں کی فہرست کا حصہ ہے۔