خاص پیشکش

ٹوپی والا انڈہ

ایک شرارتی انڈہ لال ٹوپی پہن کر دنیا دیکھنے نکل پڑتا ہے۔

کہانی پڑھیں

ایک دن گاؤں کے بیچوں بیچ ایک مرغی نے اعلان کیا، "میرا انڈہ غائب ہے، اور چور بہت ہی شریف ہے!" سب جانور حیران رہ گئے، کیونکہ شریف چور کا نام پہلی بار سنا گیا تھا۔ خرگوش نے فوراً اپنی ٹوپی سیدھی کی اور بولا، "یہ کام صرف کسی تعلیم یافتہ بندر کا ہو سکتا ہے۔"

درخت پر بیٹھا بندر اچھل کر بولا، "میں چور نہیں، میں تو آموں کا پروفیسر ہوں!" اتنے میں بکری آئی، منہ ہلاتی ہوئی، جیسے کوئی بہت بڑا راز چبا رہی ہو۔ مرغی نے شک سے پوچھا، "بکری بہن، تم نے میرا انڈہ تو نہیں دیکھا؟"

بکری نے کہا، "میں نے انڈہ نہیں دیکھا… لیکن ایک گول چیز کو ٹوپی پہن کر بھاگتے دیکھا ہے!" سب نے ایک دوسرے کو دیکھا، پھر آلو کے کھیت کی طرف دوڑ پڑے۔ وہاں ایک چھوٹا سا انڈہ واقعی لال ٹوپی پہنے جھاڑی کے پیچھے چھپا بیٹھا تھا۔

مرغی چیخی، "ارے! یہ تو میرا انڈہ ہے!" انڈے نے گھبرا کر کہا، "آہستہ! میں دنیا دیکھنے نکلا تھا، ابھی واپس آنے ہی والا تھا!" خرگوش زور سے ہنسا اور بولا، "واہ بھئی، ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے اور سیر شروع!"

بندر نے سنجیدگی سے سر ہلایا، "یہ بچہ بڑا ہو کر یا تو شاعر بنے گا یا سیاح۔" بکری نے پوچھا، "مگر ٹوپی کہاں سے ملی؟" انڈے نے فخر سے کہا، "وہ تو میں نے کدو کے پتے سے بنائی، فیشن بھی کوئی چیز ہوتی ہے!"

مرغی پہلے تو ناراض ہوئی، پھر ہنس ہنس کر اس کے پر ہی ہلنے لگے۔ اس نے کہا، "اگلی بار سیر پر جانا ہو تو کم از کم ایک پرچی چھوڑ جانا!" انڈے نے فوراً جواب دیا، "ضرور، اور ساتھ میں ناشتہ بھی پیک کر دیجئے گا۔"

اس دن کے بعد گاؤں میں کوئی چیز گم ہوتی تو سب پہلے ٹوپی والے انڈے کو ڈھونڈتے۔ اور ٹوپی والا انڈہ؟ وہ ہر شام کہتا، "میں چھوٹا ہوں، مگر میری مہمات بڑی ہیں!"

جانوروں کی اردو کہانیاں میں شامل یہ اردو کہانی تمام اردو کہانیوں کی فہرست کا حصہ ہے۔