کہانی پڑھیں
ایک جنگل میں ٹنکو نام کا بندر رہتا تھا جو ہر وقت نئی شرارت سوچتا رہتا تھا۔
ایک دن اسے درخت کے نیچے ایک چمکتا ہوا جوتا ملا، مگر وہ صرف ایک ہی تھا۔
ٹنکو نے جوتا پہن کر کہا، “اب میں جنگل کا سب سے اسٹائلش بندر ہوں!”
جیسے ہی اس نے چھلانگ لگائی، جوتا “پھشss” کی آواز کے ساتھ ہوا میں اڑ گیا۔
جوتا سیدھا ہاتھی میاں کی سونڈ پر جا گرا، اور ہاتھی میاں چھینک مار کر بیٹھ گئے۔
پھر جوتا اچھل کر طوطے کی چونچ میں پھنس گیا، اور طوطا چلایا، “میں جوتا نہیں، آم کھاتا ہوں!”
سارے جانور ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گئے، مگر ٹنکو اپنے جوتے کے پیچھے بھاگتا رہا۔
آخر جوتا تالاب میں گرا، جہاں مینڈک نے اسے کشتی سمجھ کر اس پر بیٹھ کر نعرہ لگایا، “چلو سمندر!”
ٹنکو نے ہنستے ہوئے جوتا واپس لیا اور سمجھ گیا کہ ایک جوتے سے اسٹائل نہیں، صرف مصیبت ملتی ہے۔
اگلے دن ٹنکو نے وہ جوتا جنگل کے میوزیم میں رکھ دیا، جس کے نیچے لکھا تھا: “دنیا کا پہلا اڑتا ہوا شرارتی جوتا!”
جانوروں کی اردو کہانیاں میں شامل یہ اردو کہانی تمام اردو کہانیوں کی فہرست کا حصہ ہے۔