خاص پیشکش

بھاگتا ہوا تکیہ

ایک بھاگنے نکلا تکیہ اور ساتھ آتا کمبل رات کو مزے دار بنا دیتے ہیں۔

کہانی پڑھیں

ایک رات احمد نے دیکھا کہ اس کا تکیہ آہستہ آہستہ بستر سے نیچے اتر کر دروازے کی طرف جا رہا ہے۔

احمد نے آنکھیں ملتے ہوئے پوچھا، “ارے تکیہ میاں، آپ کہاں چل دیے؟”

تکیے نے جمائی لے کر کہا، “میں روز تمہارے خراٹے سنتا ہوں، آج میں دوسری جگہ سونے جا رہا ہوں!”

احمد ہنس کر بولا، “اوہ! تو آپ مجھ سے تنگ آ گئے ہیں؟”

تکیہ بولا، “تنگ نہیں، بس سکون کی تلاش میں ہوں!”

اتنے میں کمبل بھی سرک کر بولا، “اگر پکنک ہے تو میں بھی ساتھ چلوں گا!”

دونوں دروازے تک پہنچے ہی تھے کہ کرسی سے ٹکرا کر دھڑام سے گر پڑے۔

احمد اتنا ہنسا کہ اس کی ہنسی سے ہی تکیہ واپس بستر پر لڑھک آیا۔

تکیے نے شرمندہ ہو کر کہا، “لگتا ہے میری قسمت میں تمہارے خراٹے ہی لکھے ہیں۔”

تب سے احمد ہر رات سونے سے پہلے ہنس کر کہتا، “تکیہ میاں، بھاگنے کا سوچنا بھی مت!”

اخلاقی اردو کہانیاں میں شامل یہ اردو کہانی تمام اردو کہانیوں کی فہرست کا حصہ ہے۔